10:01    , جمعہ   ,   10    جولائی   ,   2026

احمد مشتاق کی شاعری

1017 2 0 14.5

اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا

پھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھا

 

ہم نے ایک ہاتھ سے تھاما شبِ غم کا آنچل

اور اک ہاتھ کو دامانِ سحر پر رکھا

 

چلتے چلتے جو تھکے پاؤں تو ہم بیٹھ گئے

نیند گٹھری پہ دھری خواب شجر پر رکھا

 

جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ

مدتوں دھیان ترے سایۂ در پر رکھا

 

جاتے موسم نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا مشتاقؔ

رہ گیا ساغرِ گل سبزۂ تر پر رکھا

4.5 "2"ووٹ وصول ہوئے۔ 

تبصرہ تحریر کریں۔:

براہ راست 1 تبصرہ

فرحت سعیدی
احمد مشتاق نابغہ روزگار شخصیت ۔ ایک شاعرِ بے مثال

سرفراز صدیقی سوشل میڈیا پر

منجانب:سرفراز صدیقی۔ صفحات کو بنانے والے: زبیر ذیشان ۔